دریائی جانور

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - دریا میں رہنے والی مچھلیاں وغیرہ۔ "معلوم ہوا کہ دریائی جانور کے لیے ذبح کرنا شرط نہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٣٦١:١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'دریائی' کے ساتھ فارسی ہی سے ماخوذ اسم 'جانور' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٨٧ء سے "خیابان آفرینش" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دریا میں رہنے والی مچھلیاں وغیرہ۔ "معلوم ہوا کہ دریائی جانور کے لیے ذبح کرنا شرط نہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٣٦١:١ )